| عہدِ وفا بھی ختم ہوا وہ بدل گیا |
| مجھ میں بسا وہ شخص بھی مجھ سے نکل گیا |
| دونوں گرا سکے نہ جو مل کر انا کے بت |
| آخر تعلقات کو سارے نگل گیا |
| حیران ہوں کہ فرقتوں کا کیا اثر ہوا |
| وہ بھی سنبھل گیا ہے تو میں بھی سنبھل گیا |
| یہ بات میری فہم سے بالکل بعید ہے |
| دعووں کا اک پہاڑ بھی کیسے پگھل گیا |
| لے کر سکون کے لئے میں جاؤں گا کہاں |
| تیرے بنا جو دل مرا پھر سے مچل گیا |
| تُو بھی عجب ہی سوچ جو رکھتا ہمایوں ہے |
| پہلے بھی کب کہاں کبھی یہ دے کے پھل گیا |
| ہمایوں |
معلومات