دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں ہم لازم یہ ستوں ہے
دنیا کو سناتا ہوں میں احوالِ دل و جاں
یہ دیس مرا عشق ہے یہ میرا جنوں ہے

0
2