| وہ لمحہِ وصال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| اور قلبِ پائمال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| ڈوبا ترے خیال میں ایسا کہ دلربا |
| مجھ کو ترا خیال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| تجھ پر خزانے وقت کے ہم نے بہا دیئے |
| فردا تو کیا یہ حال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| اس ارتقائے زیست نے پہنچا دیا کہاں |
| جو لازمی سوال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| جو رہ گیا کہیں پہ وہ زادِ سفر مرا |
| وہ قیمتی ملال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| تھی جس کے قہقہوں سے یہ رنگین زندگی |
| وہ شوخِ بے مثال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
| جو غم کی چاشنی سے ہمایوں تجھے ملا |
| چہرے کا وہ جلال بھی اب ڈھونڈنا پڑا |
معلومات