| ہے گزاری جو اذیت میں ہی ساری ہم نے |
| پھر بھی رکھا ہے ترا عشق ہی جاری ہم نے |
| کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش |
| رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے |
| شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار |
| زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے |
| ہم کو مقصود ترے عشق میں اک درجہ تھا |
| بازیِ عشق تو ایسے نہیں ہاری ہم نے |
| ہم نے سیکھا ہے ترے عشق سے قائم رہنا |
| جو بنا رکھا ہے اس سوچ کو بھاری ہم نے |
| پھر کبھی ہم نے نہ مانگی ہے خلاصی اس سے |
| خود پہ اک بار کیا عشق جو طاری ہم نے |
معلومات