جب بھی لاہور سے ہجرت کا سوال آتا ہے
مجھکو رہ رہ کے فقط تیرا خیال آتا ہے
تیرے پہلو نے بچا رکھی ہے عزت اپنی
ورنہ خورشید پہ بھی وقتِ زوال آتا ہے
مصر والوں کو بتانا ہے حسیں کا مطلب
اب سرِ بزم مرا زہرہ جمال آتا ہے
مانگتا جو بھی تھا بچپن میں مجھے ملتا تھا
تو نہیں ملتا تو مجھکو یہ خیال آتا ہے
اب دعا میں نہیں سجدے میں تجھے مانگتا ہوں
پھر کہیں جا کے عبادت میں کمال آتا ہے

0
9