جب سے ہم تیرے پرستار ہوئے ہیں
جو مخالف تھے طرفدار ہوئے ہیں
دن کسی طور جو کٹتے ہی نہیں تھے
تیرا ملنا تھا کہ تہوار ہوئے ہیں
رنگ بے رنگ ہوا کرتے تھے پہلے
اس نے پہنے ہیں تو شہکار ہوئے ہیں
منتشر تھے یہ خیالات ہمیشہ
تجھ کو دیکھا ہے تو اشعار ہوئے ہیں
کون ہو آپکے اسرار سے واقف
ہاں مگر صاحبِ اسرار ہوئے ہیں
اب کہ درکار دعا ہے نہ دوا ہے
ہم بہت سوچ کے بیمار ہوئے ہیں
حیدر اب لائو ذرا چشمِ زلیخا
تجھ سے ملنے کو وہ تیار ہوئے ہیں

0
16