Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@User2021

شعری و ادبی مجموعے: 1۔ ماں 2۔ میرے انمول دُکھ 3۔ بنتِ حوا 4۔ اقوالِ ساگر شاعر و مصنف: ساگر حیدر عباسی (کراچی، پاکستان)

آنکھوں میں ایک عکس ہے اب تک بسا ہوا
پلکیں جھکیں تو کتنے ہی منظر بکھر گئے
خاموشیوں میں درد کی شدت عجیب تھی
لب کھل گئے تو آنکھوں سے آنسو گزر گئے
دل پر کسی کے ہجر کا ایسا ہوا اثر
جو زخم بھرنے والے تھے، وہ بھی ابھر گئے

0
ہر شخص کو ہے ضرورت کوئی نہ کوئی یہاں پر
امید کی لو ذرا تم یہ سوچ کر ہی جلانا
© ساگر حیدر عباسی

0
5
سانپوں کا معلوم نہیں ساگر مجھے لیکن
لوگوں کے زہریلے رَوَیّے دیکھے ہیں میں نے
© ساگر حیدر عباسی

0
3
مری قیمت کہاں اب تک تری دنیا نے جانی ہے
مرے ہر زخم میں پنہاں وفاؤں کی نشانی ہے
جو حرفِ درد لکھے تھے جو آنسو لفظ بن بیٹھے
وہی فردا کے انسانوں کے دل کی ترجمانی ہے
میں خاموشی میں پلتا تھا مگر خاموش کب تھا میں
مرے لفظوں میں پنہاں یہ مرے دل کی کہانی ہے

0
20
استاد اپنے فیض سے دل کو مرے بیدار کر
علم و عمل کی روشنی سے زندگی گلزار کر
نادان نسلِ عصر کو آئینۂ کردار دے
اخلاق کو دستور دے اخلاص کو بنیاد کر
اک بار پھر بیدار کر سوئی ہوئی تقدیر کو
ہر اک جواں دل میں تو پیدا جوہرِ کردار کر

0
4
جھوٹ کا تاج ترے سر سے اتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت دیتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
حق ترے دل میں کسی دن بھی اتر جائے گا

0
30
اک نرم سی صدا نے مرا دل یوں چھو لیا
سویا ہوا وجود تھا خود سے ملا دیا
ویران دشتِ دل میں امیدوں کے گل کھلے
اک حرفِ صبر نے نیا رستہ دکھا دیا
میں خاک تھا مگر مری منزل فلک بنی
جب نفسِ مطمئنہ کی دولت مجھے ملی

24
مرے جانے کے بعد آخر
مجھے بھی یاد کیا جائے
مرے لفظوں کی خوشبو سے
کوئی دل چھو لیا جائے
جو کہتے تھے مری باتیں
ہوا میں کھو ہی جاتی ہیں

21
الٰہی کیا قیامت یہ
تری دنیا میں برپا ہے
کہ ہر معصوم گل پر کیوں
ستم ہر سو ہی پھیلا ہے
وہ ماں کی آنکھ کا تارا
وہ باپوں کا سہارا تھی

18
کوئی پوچھے تو سچ بتا لینا
تم انا کا یہ بت گرا لینا
اپنی عزت کا پاس رکھنا تم
اپنے کردار کو بچا لینا
درد کوئی نہ گر ترا سمجھے
رب کو تنہائی میں سنا لینا

31
بزمِ چراغِ درد میں ہر دل جلا ہوا
ہر سمت غم کا ایک سمندر بچھا ہوا
ویران دل کے شہر میں آہٹ نہ تھی کہیں
بس دردِ دل تھا خامشیوں میں بسا ہوا
ہر آنکھ خوابِ زیست کی میّت اٹھائے تھی
ہر شخص اپنے کرب کا پیکر بنا ہوا

18
میں اشکِ یاس آنکھوں میں لیے ہنستا رہا ہوں
تری یادوں میں شب و روز ہی روتا رہا ہوں
غمِ دل نے مرے چہرے کی رونق چھین ڈالی
مگر میں دل کے صحرا میں وفا بوتا رہا ہوں

15
ایک رات اکیلی میں
گمشدہ پہیلی میں
ایک تتلی نکلی تھی
جیسے خامشی نے خود
اپنے ہونٹ کھولے ہوں
وقت کی نگاہوں میں

15
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

21
غمِ عشق تیرے ستم کا اثر ہے
مجھے اب نہ کوئی کسی کی خبر ہے
یوں پھیلا ہوا زہر تیرا ہے مجھ میں
اگر سانس بھی لوں تو جلتا جگر ہے
ترے عشق نے مجھ کو دی ہے یہ شہرت
مجھے جانتا اب تو یہ شہر بھر ہے

21
جھوٹ کا تاج ترے سر سے اتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت دیتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
حق ترے دل میں کسی دن بھی اتر جائے گا

31
جھوٹ جس شخص کے کردار میں بس جاتا ہے
وقت اس شخص کا معیار گرا دیتا ہے
از ساگر حیدر عباسی

0
16
معافی شاید مل جائے، مگر آپ کے ٹوٹے ہوئے بھروسے کی بازگشت میرے ضمیر میں ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔

0
19
1-صبر ہر دکھ کا انکار نہیں، بلکہ ہر دکھ کے باوجود امید کا اقرار ہے۔
2-جو شخص صبر کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ قسمت کے بدلنے سے پہلے خود کو سنوار لیتا ہے۔
3-صبر صرف انتظار کا نام نہیں، بلکہ انتظار کے دوران کردار کو قائم رکھنے کا نام ہے۔
4-صبر کمزوروں کی مجبوری نہیں، مضبوط لوگوں کا شعوری فیصلہ ہے۔
5-صبر، شکست کو سبق بنا دیتا ہے۔
6-صبر، زخموں کو وقار عطا کرتا ہے۔

0
16
صبر ہر دکھ کا انکار نہیں، بلکہ ہر دکھ کے باوجود امید کا اقرار ہے۔

0
13
جو ہاتھ احسان کے لیے اٹھتے ہیں، وہ اپنی عظمت کا اعلان کیے بغیر بلند ہو جاتے ہیں۔

0
12
احسان کی ایک کرن کبھی کبھی مایوسی کی پوری رات کو شکست دے دیتی ہے۔

0
11
احسان کا وزن ترازو میں نہیں، دلوں کی دعا میں ناپا جاتا ہے۔

0
16
زندگی کی اصل خوبصورتی دوسروں پر احسان کرنے میں پوشیدہ ہے۔

0
12
دوغلے لوگوں کا احسان دل میں شکر نہیں بلکہ بوجھ پیدا کرتا ہے۔

0
15
منافقت کی سب سے خطرناک شکل، اپنائیت کا لبادہ ہے۔

0
23
وہ لمحہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جب انسان ضرورت کے ہاتھوں اپنی خودداری ہار بیٹھتا ہے

0
16
ہر مجبور شخص کمزور نہیں ہوتا، مگر کچھ مجبوریاں انسان سے اس کا وقار چھین لیتی ہیں۔

0
15
محبت اگر عزتِ نفس کی قیمت مانگے، تو ایسی محبت سے محرومی بہتر ہے۔
عزتِ نفس کے بدلے مانگی گئی قربانی، کبھی وفا کی دلیل نہیں بن سکتی۔

0
21
جو رشتہ عزتِ نفس کے بدلے ملے، وہ دیرپا نہیں ہوتا

0
12
اپنے کردار کو اتنا بلند رکھو کہ دوسروں کا رویہ تمہاری پہچان نہ بن سکے

0
20
جو تمہیں کھو کر بھی مطمئن تھا، اسے اپنی خوش حالی سے جواب دو، شکایتوں سے نہیں

0
13
عزتِ نفس والے دل نفرت نہیں پالتے، بس فاصلے قائم کر لیتے ہیں

0
22
عمر بھر تم پہ ناز تھا پر
ایک لمحے میں پھر گئے تم
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
11
مرا سکون چھین کر
رہا جو میری ذات میں
نہ وہ کبھی جدا ہوا
نہ آ سکا حیات میں
دعا بھی اس کے نام کی
گلہ بھی اس کے نام کا

0
23
تیرا ساگر اس جہاں میں یہ بسیرا
ریت کے بے نام ذرے کی طرح ہے
عمر بھر بھٹکے سکوں کی جستجو میں
ہر سفر صحرا کے رستے کی طرح ہے
اپنی ہستی پر نہ اتنا ناز کرنا
سانس اک مہمان لمحے کی طرح ہے

0
25
ہو اگر حرف میں تاثیر تو جاں بخش بھی ہو
ورنہ بے سود ہے ہر نغمۂ بے جان، سخن
ہو اگر ذوقِ نظر خاک میں افلاک دکھیں
ورنہ بینا کو بھی ملتا نہیں عرفانِ سخن
بے ادب اہل کی محفل سے کنارا ہی بھلا
خامشی بہتر از آں، حرفِ پریشاں، اے سخن

0
19
کسی رشتے میں بھی ویسی محبت ہی نہیں ہوتی
جو ماں کے دل میں ہوتی ہے وہ شدت ہی نہیں ہوتی
جہاں میں ماں سے بڑھ کر کوئی نعمت ہی نہیں ہوتی
خدا کی اس عطا جیسی عنایت ہی نہیں ہوتی
دعا کی چھاؤں مل جائے تو ہر آفت بھی ٹل جائے
کسی بھی سائباں میں وہ حفاظت ہی نہیں ہوتی

0
19
جانے والے کو بھولنا بہتر
ورنہ جینا سزا ہو جاتا ہے
یوں کسی کو نہ چاہ، اے ساگر
پل میں انساں خدا ہو جاتا ہے

0
9
تری یاد دل میں چراغِ سحر ہے
مری ہر دعا کا یہی اک ثمر ہے
غمِ ہجر دل پر عجب سا اثر ہے
مری زندگی اب تو دردِ جگر ہے
مرے دل میں اب بھی وہی اک نظر ہے
جو برسوں سے دل کا حسیں ہم سفر ہے

0
21
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
12
خزاں کے بعد بھی دیکھو، چمن آباد رہتا ہے
اگر دل میں امیدوں کا کوئی گلزار رہتا ہے

0
12
تیری ہستی مری جینے کا سہارا نکلی
تیری سیرت ہی مری زیست کا دھارا نکلی
جب بھی حالات نے چاہا کہ مجھے وہ توڑیں
تیری آواز مری روح کا نعرہ نکلی
سیکھا تجھ سے یہ کہ طوفان سے ڈرنا کیسا
تیری ہر بات مری راہ کا تارا نکلی

0
15
اے مرے رب تیری رحمت سے ہے روشن ہر جہاں
تیری قدرت سے عیاں ہے کائناتِ بے کراں
تو نے مٹی کو عطا کی عقل دل سوز و نظر
تو نے بخشا آدمی کو عزتِ کون و مکاں
پھر یہی انسان کیوں بھٹکا ہوا پھرتا ہے آج
کیوں ہے دل ویران اس کا کیوں بجھا ہے کارواں

0
15
وہ میرے حال پہ ہنسنے والے لوگ جو تھے
خود اپنے حال پہ رونے کے قابل نہ رہے

0
12
وہی زخموں کا بانی تھا وہی مرہم لگاتا تھا
عجب وہ اپنے ہونے کا یقیں دل کو دلاتا تھا
وہی الزام دیتا تھا وہی معصوم بنتا تھا
عجب کردار تھا اس کا عجب پردے لگاتا تھا
وہی ہر درد کا باعث وہی آرامِ جاں ٹھہرا
وہی نزدیک رہ کر بھی مسافت چھوڑ جاتا تھا

27
حسابِ جہاں کیا تو یہ راز افشاں ہوا
خسارہ ہی تھا وہ جس کو ہمیشہ نفع کہا

15
ترے خیال میں پھرا میں اتنا دربدر
سفر تمام کر کے بھی نہ اپنا گھر ملا

13
تعلقوں کے شہر میں یہی عجیب رسم ہے
سزا تو مل گئی مگر قصور ہی نہ مل سکا

13
زمانے نے ستم کچھ کم نہیں ڈھائے مرے دل پر
مرا غم کیوں بڑھانے کا تجھے سوجھا مرے دلبر

0
14
غمِ جاناں میں نے مانا
محبت جان لیتی ہے
ساگرحیدرعباسی

0
9