کسی رشتے میں بھی ویسی محبت ہی نہیں ہوتی
جو ماں کے دل میں ہوتی ہے وہ شدت ہی نہیں ہوتی
جہاں میں ماں سے بڑھ کر کوئی نعمت ہی نہیں ہوتی
خدا کی اس عطا جیسی عنایت ہی نہیں ہوتی
دعا کی چھاؤں مل جائے تو ہر آفت بھی ٹل جائے
کسی بھی سائباں میں وہ حفاظت ہی نہیں ہوتی
جو ماں کی گود سے بڑھ کر سکوں ڈھونڈے زمانے میں
کسی منزل پہ پھر ایسی سہولت ہی نہیں ہوتی
قدم جب لڑکھڑائیں ماں سہارا بن ہی جاتی ہے
کسی کے بول میں ایسی نصیحت ہی نہیں ہوتی
خدا کے بعد ماں کا حق ادا کرنا بہت مشکل
بشر میں اس قدر حق کی ادائیگی نہیں ہوتی
دعا لے کر جو نکلے ماں کے در سے کامیاب آئے
کہ ماؤں کی دعا جیسی قبولیت نہیں ہوتی
یہی کہتا ہوں میں ساگر یہی دنیا کی حکمت ہے
کسی بھی رشتے میں ماں جیسی عظمت ہی نہیں ہوتی

0
1