اے مرے رب تیری رحمت سے ہے روشن ہر جہاں
تیری قدرت سے عیاں ہے کائناتِ بے کراں
تو نے مٹی کو عطا کی عقل دل سوز و نظر
تو نے بخشا آدمی کو عزتِ کون و مکاں
پھر یہی انسان کیوں بھٹکا ہوا پھرتا ہے آج
کیوں ہے دل ویران اس کا کیوں بجھا ہے کارواں
مسجدیں آباد ہیں لیکن دلوں میں نور کم
رسم باقی ہے مگر باقی نہیں روحِ اذاں
علم کی دولت بہت ہے حکمتوں کا فقر ہے
لب پہ دعوائے وفا دل میں مگر سود و زیاں
بھوک سے کمزور بچوں کی صدائیں بھی تو سن
اشک میں ڈوبی ہوئی ماؤں کی خاموشیاں
اے کریمِ بے نیاز اپنے کرم کی کر نظر
ہم گنہگاروں کو بھی دے ایک ساعت کی اماں
تو اگر چاہے تو پتھر بھی نگیں بن جائیں گے
تو اگر چاہے تو صحرا بھی بنیں رشکِ جناں
پھر دلوں میں سوزِ ایماں پھر نگاہوں میں حیا
پھر محبت کا اُجالا پھر اخوت کا سماں
ہم کو ایسا راستہ دے کے رضا تیری ملے
اور اسی پر ختم ہو اس زندگی کا امتحاں

0
4