| کوئی پوچھے تو سچ بتا لینا |
| تم انا کا یہ بت گرا لینا |
| اپنی عزت کا پاس رکھنا تم |
| اپنے کردار کو بچا لینا |
| درد کوئی نہ گر ترا سمجھے |
| رب کو تنہائی میں سنا لینا |
| وقت رشتوں کا پاس رکھتا نہیں |
| یہ حقیقت نہ تم بھلا لینا |
| میں تو ساگر یہ درد سہہ کے چلا |
| تم نہ خود کو کبھی گنوا لینا |
معلومات