وہی زخموں کا بانی تھا وہی مرہم لگاتا تھا
عجب وہ اپنے ہونے کا یقیں دل کو دلاتا تھا
وہی الزام دیتا تھا وہی معصوم بنتا تھا
عجب کردار تھا اس کا عجب پردے لگاتا تھا
وہی ہر درد کا باعث وہی آرامِ جاں ٹھہرا
وہی نزدیک رہ کر بھی مسافت چھوڑ جاتا تھا
وہی ہر درد کا قصہ مرے لب پر سجاتا تھا
وہی پھر اس کہانی کو زمانے سے چھپاتا تھا
وہی خاموش نظروں سے کئی باتیں سناتا تھا
وہی لفظوں کی محفل میں مگر سب بھول جاتا تھا
وہی ٹوٹا ہوا دل جوڑتا تو تھا محبت سے
وہی اک لمحۂ غصہ میں دل کو توڑ جاتا تھا
وہی قسمت کا لکھا تھا وہی تقدیر تھا ساگر
مگر ہر موڑ پر آ کر وہ تنہا چھوڑ جاتا تھا

2