| ایک رات اکیلی میں |
| گمشدہ پہیلی میں |
| ایک تتلی نکلی تھی |
| جیسے خامشی نے خود |
| اپنے ہونٹ کھولے ہوں |
| وقت کی نگاہوں میں |
| کوئی خواب بولے ہوں |
| تھیں لکھی پروں پر بھی |
| چاندنی کی تحریریں |
| اور بدن پہ ٹھہری تھیں |
| بے صدا سی تفسیریں |
| ہر قدم پہ سایوں نے |
| اس کو روکنا چاہا |
| ہر ہوا نے شاخوں کا |
| جال بھی بچھایا تھا |
| پھر بھی اس کی آنکھوں میں |
| ایک ضد چمکتی تھی |
| وہ دعا کی صورت تھی |
| وہ وفا کی مورت تھی |
| صبح کے اُفق پر جب |
| دھوپ نے قدم رکھا |
| لوگ صرف تتلی کو |
| دیکھتے رہے لیکن |
| جانتا نہ تھا کوئی |
| وہ تمام رات اپنے |
| رنگ بانٹ آئی تھی |
| خوف کی فصیلوں پر |
| جب بھی دل یہ ڈر جائے |
| غم کی رات اتر آئے |
| یاد رکھنا تتلی کو |
| تتلیاں نہیں جیتیں |
| پھولوں کے سہاروں پر |
| روشنی بچا کر وہ |
| ہر اندھیرے جنگل میں |
| راستہ بناتی ہیں |
| وہ نہ پھول چنتی ہیں |
| اور نہ خوشبو کی طالب |
| اک کرن کی خواہش میں |
| روشنی کو بوتی ہیں |
| تتلیاں ہی تو ساگر |
| بیٹیوں سی ہوتی ہیں |
معلومات