تری یاد دل میں چراغِ سحر ہے
مری ہر دعا کا یہی اک ثمر ہے
غمِ ہجر دل پر عجب سا اثر ہے
مری زندگی اب تو دردِ جگر ہے
مرے دل میں اب بھی وہی اک نظر ہے
جو برسوں سے دل کا حسیں ہم سفر ہے
وفا کی گلی میں چلے تھے اکیلے
ملا جو بھی آخر وہ درد و شرر ہے
نہ پوچھو کہ دل پر یہ کیسی گھڑی ہے
ہر اک سانس جیسے عذابِ سفر ہے
زُہا، عشق کرنا اگر ہے تو سن لے
یہ آغاز شیریں مگر پُرخطر ہے

0
2