| استاد اپنے فیض سے دل کو مرے بیدار کر |
| علم و عمل کی روشنی سے زندگی گلزار کر |
| نادان نسلِ عصر کو آئینۂ کردار دے |
| اخلاق کو دستور دے اخلاص کو بنیاد کر |
| اک بار پھر بیدار کر سوئی ہوئی تقدیر کو |
| ہر اک جواں دل میں تو پیدا جوہرِ کردار کر |
| باطل کے ہر طوفان میں تو سرخرو رہنا سکھا |
| عزمِ جواں کو پُختہ کر ایمان کو فولاد کر |
| تیری نظر سے آدمی پہچان لے اپنی خودی |
| پھر ہر بشر کو عزمِ نو دے صاحبِ کردار کر |
| یا رب مرے اُستاد کا فیضِ سخن جاری رہے |
| اس کی دعا مقبول کر اس کے سخن کو عام کر |
معلومات