Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@1987

شعری و ادبی مجموعے: 1۔ ماں 2۔ میرے انمول دُکھ 3۔ بنتِ حوا 4۔ اقوالِ ساگر شاعر و مصنف: ساگر حیدر عباسی (کراچی، پاکستان)

مجھے شاعر نہ سمجھو تم مرا دل درد کا گھر ہے
میں وہ ٹوٹا سا انساں ہوں جسے بس تیرا ہی غم ہے
محبت کے فریبوں میں مجھے برسوں رکھا تم نے
لبوں پر پیار تھا لیکن دلوں میں اک تماشا تھا
وفا کے نام پر تم نے کئی وعدے سجائے تھے
مگر ہر عہد کے پیچھے کوئی مطلب چھپایا تھا

0
19
درد دکھ غم کی کوئی دوا ہے کیا
پاس تیرے بھی ایسی وفا ہے کیا
تم بھی شاید کہ بیمارِ الفت ہی ہو
میری ہی طرح تم کو بھی گِلہ ہے کیا
رات بھر کیوں بدلتے ہو کروٹ یوں تم
درد کوئی تمہیں بھی ملا ہے کیا

0
28
1۔ زندگی ایک ایسا خواب ہے، جس کی آنکھ قبر میں جا کر کھلتی ہے۔
2۔ جھوٹ انسان کے ارادوں کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔
3۔ کچھ رشتے دل کی دھڑکن کی مانند ہوتے ہیں؛ انہیں محسوس تو کیا جا سکتا ہے، مگر چھوا نہیں جا سکتا۔
4۔ جب کسی کا عیب نظر آئے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرو، کیونکہ غیبت سے بچنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔
5۔ جس کے دل میں سیکھنے کی لگن زندہ ہو، اسے قابل بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
6۔ بدزبان اور بدلحاظ انسان کا سب سے مؤثر جواب خاموشی ہے۔

0
14
دیمک کی طرح غم بھی یہ چپکے سے پل گیا
ہنستا ہوا وجود تھا اندر سے گل گیا
یادوں کا اک ہجوم تھا سینے میں عمر بھر
اک نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا
آنکھوں میں اک چراغ بڑی دیر تک رہا
پھر شام جب ہوئی وہ اندھیروں میں گھل گیا

0
39
دیمک کی طرح غم بھی یہ چپکے سے پل گیا
ہنستا ہوا وجود تھا اندر سے گل گیا
یادوں کا اک ہجوم تھا سینے میں عمر بھر
اک نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا
آنکھوں میں اک چراغ بڑی دیر تک رہا
پھر شام جب ہوئی وہ اندھیروں میں گُھل گیا

0
32
تم مجھے گر نبھا لیتے تو اچھا تھا
دردِ دل سے بچا لیتے تو اچھا تھا
ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں جدا ہو کہ میں
تم جو اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
آنسو جو ضبط کے دل پہ گرتے رہے
آنکھ سے ہی بہا لیتے تو اچھا تھا

0
27
سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم
سبھی قسمیں سبھی رسمیں محبت کی نبھانا تم
تمہارے بن یہ دنیا تو مجھے بے نور لگتی ہے
تمہارے بن خوشی بھی یہ خودی سے دور لگتی ہے
تمہارے بن مری سانسیں مرے سینے میں گھٹتی ہیں
تمہارے بن یہ میری دھڑکنیں دل کی مچلتی ہیں

0
22
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی تمہیں کس بات کا ڈر ہے
جدائی ہے محبت میں تو ملنا بھی مقدر ہے
محبت میں جدائی کی روایت توڑ دوں گی میں
تری خاطر یہ دنیا کی حقیقت چھوڑ دوں گی میں
محبت میں ترا ملنا مقدر میں لکھاؤں گی
میں نے چاہا ہے تمہیں اور ہمیشہ تمہیں چاہوں گی

0
39
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
22
راز سے پردہ اٹھا بیٹھا ہوں
درد دل سب کو سنا بیٹھا ہوں
گل کھلانے کی تھی خواہش دل میں
پیڑ کانٹوں کے لگا بیٹھا ہوں
میں تجھے بھولنے کی کوشش میں
اپنا ہی درد بڑھا بیٹھا ہوں

0
26
تم یوں ہر بات پر نہ روٹھا کرو
میں تمہیں گر منانا بھول گیا
یاد رہتا نہیں مجھے کبھی کچھ
میں ہی اپنا فسانہ بھول گیا
کس زمانے سے آیا ہے تو بتا
میں بھی اپنا زمانہ بھول گیا

17
وقت تو خیر سے یہ گزر جائے گا
تیرا یہ غم مری جان کھا جائے گا
گِلے شکوے بھی ہیں تجھ سے، اے زندگی
جیتے جیتے مگر جینا آ جائے گا
کوئی تو لمحہ ہوگا کہ آخر کبھی
میرا بے چین دل بھی جزا پائے گا

0
19
اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے
ماں کے بن غیر کا در لگتا ہے
قبر تک ساتھ چلے گا میرے
غم ترا دردِ جگر لگتا ہے
زندگی ماں کے بنا ایسی ہے
جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے

0
32
ترے پیار میں وہ اثر ہی کہاں
ترے درد میں ایک تاثیر ہے
مرے دل کی ویران بستی میں اب
تری یاد ہی ایک تنویر ہے
جو بھی زخم تو نے دیے تھے مجھے
وہی میری ہستی کی تقدیر ہے

0
22
مرحلے عشق کے ختم ہو بھی چکے
ہم ترے درد کا رونا رو بھی چکے
رات بھر تکتے رہتے ہو تم چاند کو
لوگ خواب اوڑھ کر کب کہ سو بھی چکے
جس کہ غم میں یہ مجنوں بنے پھرتے ہو
خیر سے وہ کسی اور کے ہو بھی چکے

175