| اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے |
| ماں کے بن غیر کا در لگتا ہے |
| قبر تک ساتھ چلے گا میرے |
| غم ترا دردِ جگر لگتا ہے |
| زندگی ماں کے بنا ایسی ہے |
| جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے |
| جم گئے اشک مرے چہرے پر |
| پھر بھی چہرہ مرا تر لگتا ہے |
| بجھ گیا تجھ سے بچھڑ کر ساگر |
| اب کہاں دل کو سحر لگتا ہے |
معلومات