| سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم |
| سبھی قسمیں، سبھی رسمیں محبت کی نبھانا تم |
| تمہارے بن یہ دنیا تو مجھے بے نور لگتی ہے |
| تمہارے بن خوشی بھی مجھ کو خود سے دور لگتی ہے |
| تمہارے بن مری سانسیں مرے سینے میں گھٹتی ہیں |
| کہ دل کی دھڑکنیں، جاناں، تمہارے بن مچلتی ہیں |
| دیا ہے ساتھ جب میرا، تعلق بھی نبھانا تم |
| سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم |
| مری آنکھوں نے آنسو کے کئی سیلاب دیکھے ہیں |
| ملے ہو تم تو آنکھوں نے نئے کچھ خواب دیکھے ہیں |
| ملا کر یوں نظر مجھ سے، نگاہیں مت چرانا تم |
| سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم |
| محبت میں فریبوں کی یہ رسمیں توڑ دینا تم |
| کسی بھی غیر کی خاطر نہ مجھ کو چھوڑ دینا تم |
| تمہیں ترسیں مری آنکھیں، نہ مجھ کو یوں ستانا تم |
| سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم |
| محبت میں مجھے جاناں، نہ ایسے آزمانا تم |
| اگر پونچھے ہیں میرے آنسو، مجھ کو مت رلانا تم |
| دیا ہے ساتھ جب میرا، تعلق بھی نبھانا تم |
| سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم |
معلومات