| تم یوں ہر بات پر نہ روٹھا کرو |
| میں تمہیں گر منانا بھول گیا |
| یاد رہتا نہیں مجھے کبھی کچھ |
| میں ہی اپنا فسانہ بھول گیا |
| کس زمانے سے آیا ہے تو بتا |
| میں بھی اپنا زمانہ بھول گیا |
| اس قدر جستجو میں تیری پھرا |
| خود میں اپنا ٹھکانہ بھول گیا |
| مضطرب ہوں، بھٹکتا ہوں، ساگرؔ |
| دل مرا مسکرانا بھول گیا |
معلومات