| وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی تمہیں کس بات کا ڈر ہے |
| جدائی ہے محبت میں تو ملنا بھی مقدر ہے |
| محبت میں جدائی کی روایت توڑ دوں گی میں |
| تری خاطر یہ دنیا کی حقیقت چھوڑ دوں گی میں |
| محبت میں ترا ملنا مقدر میں لکھاؤں گی |
| میں نے چاہا ہے تمہیں اور ہمیشہ تمہیں چاہوں گی |
| وفا کی لاج میں اپنا سبھی کچھ میں لٹاؤں گی |
| وفا فطرت ہے میری میں زمانے کو بتاوں گی |
| نہیں ممکن کبھی تیری محبت سے مکر جاؤں |
| وفا پر حرف آئے اس سے بہتر ہے کہ مر جاؤں |
| بہت قصے سنے تھے اس لئے چاہت سے ڈرتا تھا |
| جفا کا خوف تھا لیکن محبت اس سے کرتا تھا |
| رہا یہ کھیل کچھ دن تک حسیں سی زندگانی تھی |
| محبت خوبصورت تھی جوانی بھی سہانی تھی |
| محبت میں بچھڑنے کی روایت توڑنے والی |
| مری خاطر محبت میں زمانہ چھوڑنے والی |
| وہی مجھ کو دغا دے گی تصور تک نہ تھا جس کا |
| وہی نکلی سبب آخر مری بربادیِ دل کا |
| دغا مجھ کو دیا اس نے وفائیں جو جتاتی تھی |
| وفا فطرت ہے عورت کی یقیں دل کو دلاتی تھی |
| مٹا کر میری ہستی کو غموں سے چُور کر ڈالا |
| مجھے الفت کی دنیا سے بہت ہی دور کر ڈالا |
| بھروسہ اب محبت پر کبھی مجھ سے نہیں ہو گا |
| وفا فطرت ہے عورت کی مجھے کیسے یقیں ہوگا |
| جو ٹوٹا دل تو یہ جانا کہ کیا ہے ذات عورت کی |
| مرا دل پوچھتا ہے کیا وفا ہے ذات عورت کی |
| وفاؤں کی روایت کی حقیقت کھول دی اُس نے |
| ستمگر تھی محبت میں بھی نفرت گھول دی اس نے |
| وہ تھی مجبور فطرت سے محبت چھوڑ دی اُس نے |
| وفا فطرت تھی عورت کی روایت توڑ دی اُس نے |
معلومات