دیمک کی طرح غم بھی یہ چپکے سے پل گیا
ہنستا ہوا وجود تھا اندر سے گل گیا
یادوں کا اک ہجوم تھا سینے میں عمر بھر
اک نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا
آنکھوں میں اک چراغ بڑی دیر تک رہا
پھر شام جب ہوئی وہ اندھیروں میں جل گیا
جس شاخ پر امید کا اک گھونسلہ بنا
اس شاخ کو خزاؤں کا موسم نگل گیا
بارش میں دھل گئی کئی چہروں کی گرد بھی
ہر شخص ہی فریب تھا، یہ راز کھل گیا
اپنوں کے درمیاں بھی رہا اجنبی سا میں
ہر ایک شخص وقت کے سانچے میں ڈھل گیا
لکھنے کے اس ہنر کا عجب معجزہ ہوا
ہر زخم میرے دل کا قرینے سے سِل گیا
ساگر یہ زندگی میں عجب حادثہ ہوا
اک جھوٹ کی تپش سے مرا گھر پگھل گیا

0
2