مجھے شاعر نہ سمجھو تم مرا دل درد کا گھر ہے
میں وہ ٹوٹا سا انساں ہوں جسے بس تیرا ہی غم ہے
محبت کے فریبوں میں مجھے برسوں رکھا تم نے
لبوں پر پیار تھا لیکن دلوں میں اک تماشا تھا
وفا کے نام پر تم نے کئی وعدے سجائے تھے
مگر ہر عہد کے پیچھے کوئی مطلب چھپایا تھا
ہمیں سے ملنے کی فرصت نہ تھی اوروں کی چاہت میں
تمہارا دل سدا اوروں کی خاطر ہی دھڑکتا تھا
کبھی مجھ کو بھی لفظوں کی بناوٹ سے شکایت تھی
مگر اب درد لکھتا ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے
کوئی بے داغ دامن پر یونہی تہمت نہیں دھرتا
کوئی بے وجہ آخر شہد کو حنظل نہیں لکھتا
مرے لہجے کی ساری تلخیاں تھیں تجھ سے وابستہ
مرے اشعار کو پڑھ کر ترا دل کیوں نہیں دکھتا؟
مرے اشعار پر جو واہ کرتے ہو کبھی سوچا
مجھے اشعار لکھتے وقت کتنا درد ہوتا ہے
یہ آنکھیں رات بھر روتی ہیں میرا دل تڑپتا ہے
تبھی جا کر مرا اک شعر کاغذ پر اترتا ہے
تمہیں میرے غموں سے کیا تمہیں لفظوں سے مطلب ہے
جفا فطرت میں ہے تیری جفاؤں سے ہی مطلب ہے
جفا تیری عبادت تھی وفا میری عبادت ہے
مری قسمت میں شاید بس یہی چاہت کا حاصل تھا
میں نے ہر درد کو سینے میں الفت کی طرح رکھا
تمہیں ہر زخم دینے کا فقط اک شوق حاصل تھا
خدا حافظ کہ ساگر کا یہی ہے آخری شکوہ
سمجھنا مت مجھے شاعر میں اک ٹوٹا ہوا دل تھا

0
1