| وقت تو خیر سے یہ گزر جائے گا |
| تیرا یہ غم مری جان کھا جائے گا |
| گِلے شکوے بھی ہیں تجھ سے، اے زندگی |
| جیتے جیتے مگر جینا آ جائے گا |
| کوئی تو لمحہ ہوگا کہ آخر کبھی |
| میرا بے چین دل بھی جزا پائے گا |
| یہ سبھی کہنے سننے کی باتیں ہیں دل |
| کون آخر ترا غم یہ اپنائے گا |
| خوفِ دشمن ہمیں اس لیے بھی نہیں |
| میرا غم ہی مرا یہ جگر کھائے گا |
معلومات