Circle Image

BILAWAL ALI REHMANI

@REHMANI

پلک جھپکنے سی دیر میں ہی یہ سب نظارے بدل ہیں جاتے
کہ حسرتیں ساری مر ہیں جاتی سبھی سہارے بدل ہیں جاتے
وہ جن کی خوشبو سے زندگی کی حسین یادیں مہک رہی ہوں
ہو بے بسی کی بس ایک دستک وہ یار سارے بدل ہیں جاتے
کے جن کے ملنے کی تم کو چاہت لبھائے رکھے گماں میں اپنے
ملیں کہیں آسمان پر تو وہیں ستارے بدل ہیں جاتے

0
سال یہ زندگی کے انگلیوں پہ دوڑ چلے
کیا پتہ وقت بھی کب راستے میں چھوڑ چلے
سن اے قسمت کہ رہا مجھ کو ترا خوف نہیں
لے ترے رخ کو دیا حسرتوں کا موڑ چلے
بلاول علی صاحِبؔ

0
ہاتھ زخمی جو ہوئے آج تو معلوم پڑا
عمر لگتی ہے یہ دو چار کمانے کے لئے
کون کہتا ہے کہ جینا تو ہے آسان بڑا؟
عمر لگتی ہے رہ سے خار ہٹانے کے لئے
آنکھ کے سامنے تو منزلیں ہے پاس سبھی
عمر لگتی ہے تو اُس پار کو جانے کے لئے

0
اُترتے ہیں جو خلق سے ظالم کے اُن نِوالوں سے بھی گلہ ہے
یا عقلمندوں کے منہ سے نکلے خموش نالوں سے بھی گلہ ہے
جواوڑھ کر کھال بھیڑیوں کی تمہارے محسن بنے ہوئے ہیں
جو بیچتے ہیں ضمیر اپنے وہ دل کے کالوں سے بھی گلہ ہے
جیوں تو کیسے مصیبتوں کے پہاڑ مجھ کو دبا رہے ہیں
دعائیں مجھ کو ہزار برسوں کی دینے والوں سے بھی گلہ ہے

0
کب تک لگا رہے گا تماشائے زندگی؟
کب تک یہی کہوں گا میں؟ کہ ہائے زندگی؟
ہر موڑ اضطراب میں اٹی پڑی ہے یہ
ہر موڑ میری جستجو کو کھائے زندگی
بد رنگ ذہن تھا مرا قوسِ قزح بنا
جینے کے کتنے رنگ ہے دکھلائے زندگی

0
مرے جو اشک سبھی بس ترے ہی نام گرے
مجھے افسوس ہے سارے ہی وہ ناکام گرے
تو نے سوچا بھی نہ اور راستے میں چھوڑ دیا
میرا سینہ پھٹا مجھ پر کئی کہرام گرے
تجھے تو ذرّہ برابر بھی کوئی دکھ نہ ہوا
میرے تو جسم کے سارے ہی در و بام گرے

0
سنو سنو سنو سنو کلام ہے بلا شبہ
یہ دنیا سازشوں کا ہی مقام ہے بلا شبہ
یہ عہدے دار کھا گئے ترا مرا نصیب بھی
نہ ہی تو نوکری ہے نہ ہی کام ہے بلا شبہ
جکا کرو ڈرا کرو مگر نہ التجا کرو
تو اہل سلطنت تجھے سلام ہے بلا شبہ

0
1
چلو یہ عہد کا ہم احتمام کرتے ہیں
بقائے ذوق کو اپنا پیام کرتے ہیں
بحال کرتے ہیں شعر و سخن کی محفل کو
جنونِ ریختہ کو پھر سےعام کرتے ہیں
نئی نسل کے شگوفوں کو داد دیتے ہیں
ادب کے گلشنوں میں جو قیام کرتے ہیں

0
2
دیکھا ہے کبھی تم نے زمانے کا تماشہ؟
عیب زدہ لوگ چُھپانے کا تماشہ؟
فکرو فکر میں خود کو دکھانے کا تماشہ؟
جھوٹ کو بھی سچ میں سُنانے کا تماشہ؟
رشتوں میں اپنا پیار جتانے کا تماشہ؟
بے علم کا بھی علم سکھانے کا تماشہ؟

34
اس کیفِ عالم میں چل رہی ہیں اب تو سارے جہاں کی باتیں
اب موسموں سے بھی ہیں گِلے بہار رُت میں خزاں کی باتیں
کہاں رہی ہے دلوں میں اب وہ سالوں پہلے سی مجازی
زباں پہ سب کے ہے خود پرستی اب اِس کی باتیں کل اُس کی باتیں
ہیں عیب سب میں یہ بات سچ ہے نظر تو آتے سبھی ہیں اچھے
بنے ہوئے ہیں یوں مثلِ پیکر زباں پہ بس ہیں گناہ کی باتیں

0
61