| اس کیفِ عالم میں چل رہی ہیں اب تو سارے جہاں کی باتیں
|
| اب موسموں سے بھی ہیں گِلے بہار رُت میں خزاں کی باتیں
|
| کہاں رہی ہے دلوں میں اب وہ سالوں پہلے سی مجازی
|
| زباں پہ سب کے ہے خود پرستی اب اِس کی باتیں کل اُس کی باتیں
|
| ہیں عیب سب میں یہ بات سچ ہے نظر تو آتے سبھی ہیں اچھے
|
| بنے ہوئے ہیں یوں مثلِ پیکر زباں پہ بس ہیں گناہ کی باتیں
|
|
|