سال یہ زندگی کے انگلیوں پہ دوڑ چلے
کیا پتہ وقت بھی کب راستے میں چھوڑ چلے
سن اے قسمت کہ رہا مجھ کو ترا خوف نہیں
لے ترے رخ کو دیا حسرتوں کا موڑ چلے
بلاول علی صاحِبؔ

0