سنو سنو سنو سنو کلام ہے بلا شبہ
یہ دنیا سازشوں کا ہی مقام ہے بلا شبہ
یہ عہدے دار کھا گئے ترا مرا نصیب بھی
نہ ہی تو نوکری ہے نہ ہی کام ہے بلا شبہ
جکا کرو ڈرا کرو مگر نہ التجا کرو
تو اہل سلطنت تجھے سلام ہے بلا شبہ
زمیں پہ لیٹ جائیے گزرنا ہے یہاں اُنہیں
یہ صاحبِ قدر کا احترام ہے بلا شبہ
یہ نوٹ کاغذی میں کچھ تو راز ہے چُھپا ہوا
ہر ایک لے رہا جو اس کا نام ہے بلا شبہ
بس ایک دن کا ہے سکون تین دن ہیں کام کے
یہ چار دن کی زندگی تمام ہے بلا شبہ
کریں تو کیا کریں ہماری جیب ہی کٹی گئی
یہ ماجرا غریب پر تو عام ہے بلا شبہ
کوئی کہے یہ شاہِ وقت سے زرا خیال کر
کہ ظلمتوں کا وار بے لگام ہے بلا شبہ
جو بھی مرے بیان کو ہے جھوٹ کہہ رہا سنے
تُو بھی تو اپنی عقل کا غلام ہے بلا شبہ
بلاول علی صاحِبؔ

0
1