| اُترتے ہیں جو خلق سے ظالم کے اُن نِوالوں سے بھی گلہ ہے |
| یا عقلمندوں کے منہ سے نکلے خموش نالوں سے بھی گلہ ہے |
| جواوڑھ کر کھال بھیڑیوں کی تمہارے محسن بنے ہوئے ہیں |
| جو بیچتے ہیں ضمیر اپنے وہ دل کے کالوں سے بھی گلہ ہے |
| جیوں تو کیسے مصیبتوں کے پہاڑ مجھ کو دبا رہے ہیں |
| دعائیں مجھ کو ہزار برسوں کی دینے والوں سے بھی گلہ ہے |
| کہ جب اُمیدوں کی ساری کرنیں کمال جوبن دکھا رہیں تھیں |
| میں تب اندھیروں میں پل رہا تھا مجھے اُجالوں سے بھی گلہ ہے |
| بزُرگ کہتے تھے جو ہمارے کہ آنے والا ہے دور اچھا |
| جو دور دیکھا تو پھر بزُرگوں کی اُن مثالوں سے بھی گلہ ہے |
| خیال میرے جو اُلجھنوں میں گِرا کے مجھ کو چلے ہیں جاتے |
| میں سچ کہوں تو یہی کہوں گا کہ ایسے خیالوں سے بھی گلہ ہے |
| بکھیرے رکھتی ہو اِن کو جیسے خِزاں کی رُت میں فسردہ شاخیں |
| مثالِ نازاں معاف کرنا تمہارے بالوں سے بھی گلہ ہے |
| سُخن کی محفل میں بات صاحِبؔ تھی آنے والے نئے برس کی |
| میں اُٹھ کے بولا حُضور میرا تو اگلے سالوں سے بھی گلہ ہے |
| بلاول علی صاحِبؔ |
معلومات