مرے جو اشک سبھی بس ترے ہی نام گرے
مجھے افسوس ہے سارے ہی وہ ناکام گرے
تو نے سوچا بھی نہ اور راستے میں چھوڑ دیا
میرا سینہ پھٹا مجھ پر کئی کہرام گرے
تجھے تو ذرّہ برابر بھی کوئی دکھ نہ ہوا
میرے تو جسم کے سارے ہی در و بام گرے
مر گیا تیری اداؤں پہ مچلنے والا
تیری چوکھٹ پہ کسی روز یہ پیغام گرے
ایسی اک آہ میں نے دل میں دبا رکھی ہے
منہ سے نکلے تُو اُسی وقت ہی دل تھام گرے
میں مگر پھر بھی تجھے دل سے دعا دیتا ہوں
تیرے دامن میں محبت گرے تمام گرے
ڈوبتا دیکھ لے سورج تو تجھے خوف آئے
تیری آنکھوں میں بھی ایسی ہی کوئی شام گرے
کہیں ٹُھکرائے ہووں کی بھی ہو محفل صاحِبؔ
اُسی محفل میں مجھے دیکھ ترا جام گرے
بلاول علی صاحِبؔ

0