کب تک لگا رہے گا تماشائے زندگی؟
کب تک یہی کہوں گا میں؟ کہ ہائے زندگی؟
ہر موڑ اضطراب میں اٹی پڑی ہے یہ
ہر موڑ میری جستجو کو کھائے زندگی
بد رنگ ذہن تھا مرا قوسِ قزح بنا
جینے کے کتنے رنگ ہے دکھلائے زندگی
جتنا حماقتوں سے کروں اجتناب میں
اتنا ہی میرے ظرف کو للچائے زندگی
اک آہ بھی یقین نہیں اس حیات پر
کب کس کے جسم سے ہی نکل جائے زندگی
کس کام کے ہیں سب ہی یہ دنیاوی فلسفی
کوئی مجھے بھی تھوڑی سی سمجھائے زندگی
سینے میں جو یہ دل ہے کوئی اس سے پوچھئے
کیوں یہ ہے زور زور سے چلائے زندگی
صاحِبؔ کہ اب تو سانس بھی کامل نہیں رہی
مرجھا رہا ہے میرا یہ گلہائے زندگی
بلاول علی صاحِبؔ

0