چلو یہ عہد کا ہم احتمام کرتے ہیں
بقائے ذوق کو اپنا پیام کرتے ہیں
بحال کرتے ہیں شعر و سخن کی محفل کو
جنونِ ریختہ کو پھر سےعام کرتے ہیں
نئی نسل کے شگوفوں کو داد دیتے ہیں
ادب کے گلشنوں میں جو قیام کرتے ہیں
تلاش کرتے ہیں پوشیدہ رمز ِ اقبالی
فراز و فیض کو بھی ہم سلام کرتے ہیں
جنابِ درد کی غزلوں سے گُفتگو کرکے
زرا سا میر سے بھی ہمکلام کرتے ہیں
درخشاں کر دیا جس نے زبان اردو کو
یہ معرکہ میاں غالب کے نام کرتے ہیں
کوئی بھی صنف عطا ہو ادب کے آنگن سے
نگاہِ ذوق گِرا احترام کرتے ہیں
مثال ہوگی ہمارے چراغ ِ روشن کی
ہم ایسا شعلہ ء سوزاں تمام کرتے ہیں
یہ آرزو کوئی آسان تو نہیں صاحِبؔ
چلو پہل ہی سہی اقتدام کرتے ہیں
بلاول علی صاحِبؔ

0
2