| وہ وعدے جو کیے تُو نے، وہ سب کہانی تھوڑی ہے
|
| جو دل میں درد رہتا ہے، وہ بےمعانی تھوڑی ہے
|
| تری ہنسی لے ڈوبی جو مرے غموں کو بھی شاید
|
| یہ چُپ جو دل پہ چھائی ہے، وہ ناتوانی تھوڑی ہے
|
| میں خواب دیکھ کے جاگا تو بس دھُواں سا تھا باقی
|
| یہ راکھ میری آنکھوں کی، تری نشانی تھوڑی ہے
|
|
|