| میرا ہر لمحہ بنا اک فغان تیرے جانے کے بعد |
| زندگی ہوئی ویران، تیرے جانے کے بعد |
| تھمی ہر خوشی جیسے، اجڑ سا گیا جہان |
| بکھرنے لگا مکان، تیرے جانے کے بعد |
| جو کل تک تھا ممکن، ہوا آج بے اثر |
| مٹا ہر ایک امکان، تیرے جانے کے بعد |
| جلے ہر طرف ارماں، بہی ہر نظر کا رنگ |
| بنا درد کا نشان، تیرے جانے کے بعد |
| یہ دل اب بھی کہتا ہے، شاید تُو لوٹ آئے |
| رہا دل میں یہ گمان، تیرے جانے کے بعد |
| ؎ حیدرؔ کوئی امید، رہی پھر کہاں باقی |
| بس آنکھوں میں ہے طوفان، تیرے جانے کے بعد |
معلومات