ہم سمجھتے ہیں کہ اُلفت کوئی اصلت ہے نہیں
پھر بھی دل کے آئنے میں تیری صورت ہے نہیں
زخمِ جاناں کا مداوا کس دوا سے مل سکا
درد کی موجوں میں، اب دل کو سکونت ہے نہیں
خواب کی وادی میں میں بھٹکا برس صدیوں تلک
ہجر کی منزل کو پہنچا، پر حقیقت ہے نہیں
وقت نے دل کے دریچوں پر غبارا بھر دیا
یاد کی تحریر میں، پر کوئی آفت ہے نہیں
چاندنی میں بھی ترے جلووں کی پرچھائیں بچھی
آنکھ میں، لیکن وہ پہلی سی بصارت ہے نہیں
اور حیدرؔ دل کی بستی میں ترے جلوے رہے
اب مگر دل میں تری الفت کی حسرت ہے نہیں

0
10