| وہ وعدے جو کیے تُو نے، وہ سب کہانی تھوڑی ہے |
| جو دل میں درد رہتا ہے، وہ بےمعانی تھوڑی ہے |
| تری ہنسی لے ڈوبی جو مرے غموں کو بھی شاید |
| یہ چُپ جو دل پہ چھائی ہے، وہ ناتوانی تھوڑی ہے |
| میں خواب دیکھ کے جاگا تو بس دھُواں سا تھا باقی |
| یہ راکھ میری آنکھوں کی، تری نشانی تھوڑی ہے |
| کسی کے سنگ تُو خوش ہے، میں اپنے دُکھ میں ہوں تنہا |
| یہ رُوح اب تری یادوں سے بےزبانی تھوڑی ہے |
| مری طلب بھی اُس دم میں تری طرف پلٹتی ہے |
| یہ راہ دل کی مُڑ جانا، مری روانی تھوڑی ہے |
| تُو مکر کے بھی گر کچھ مسکرا دے ، دل پگھل ہی جائے |
| یہ نرمی اُس کی آنکھوں میں، کوئی روانی تھوڑی ہے |
| میں اپنے زخم پر نازاں ہوں، اُس کے وعدوں کے بدلے |
| یہ زخم دل پہ باقی ہے، وہ جاودانی تھوڑی ہے |
| میں حیدرؔ آج بھی چُپ ہوں مگر یہ چُپ کہے تو کچھ |
| یہ چُپ مری محبت کی، کوئی کہانی تھوڑی ہے |
معلومات