| جب آنکھیں پھیر گیا ،دل ٹوٹ گیا میرا |
| یادوں کی گھڑی اب بھی، ہے روتا ہوا میرا |
| خوابوں کی گلی میں وہ، کیوں ساتھ نہ چل پایا |
| ویران ہوا دل کا، جب بام و درا میرا |
| خوشبو تھی تباہی کی، جب زخم ملا دل پر |
| دھوکے نے جلایا ہے، ہر پُر اثر میرا |
| اب یاد کے صحرا میں، تنہائی ہی رہتی ہے |
| خاموش سا لگتا ہے، یہ بام و درا میرا |
| حیدرؔ نے اشکوں سے لکھی ہے جو حکایت غم |
| اک درد کا دریا ہے یہ چشمِ تر میرا |
معلومات