اِک عمر ہوئی خزاں کو آ کے ملو
اجڑی ہوئی اس فضا کو آ کے ملو
روٹھی ہوئی ہے رُت شاخیں بھی چپ ہیں
اس دل میں بھرے غبار کو آ کے ملو
اب عمر گزرتی ہے فقط یاد کے سائے
اس لمبے سے انتظار کو آ کے ملو
دل کو تو بہانہ ہے فقط دید کا اب
اس دل کے بھی قرار کو آ کے ملو
پردیس میں بیٹھی ہر اک یاد کہے
اس لمحے کے دیار کو آ کے ملو
کہتا ہے حیدرؔ یہی دل کی دعا ہے
اُلفت کے رہ اعتبار کو آ کے ملو

0
3