Circle Image

Faisal Ahmed

@Faisal123

غزل
دھوپ سے سایہءِ دیوار تک آتے آتے
"مر گئے ہم ترے معیار تک آتے آتے "
بیت جاتی ہیں کئی وصل کی گھڑیاں اس میں
آپ سے، تم سے، سنو یار تک آتے آتے
ہے ترے غم کی حرارت کا اثر اشکوں پر

11
اس کی نمناک نگاہوں میں تھا اک سیلِ رواں
میری آنکھوں سے بھی اشکوں کا سمندر نکلا
اس کی اک "ہممم "کے بھی ہوتے ہیں ہزاروں معنی
مرا دیوان بھی " ردّی کے برابر " نکلا
مجھ کو معلوم نہ تھا کیا ہے ؟ نظر کا دھوکا
میں جسے موم سمجھتا تھا وہ پتھر نکلا

0
11
منقسم ہوگئیں جب اہلِ جہاں میں خوشیاں
میرے حصے میں ترے پیار کا اک پل آیا
یوں تو جذبات کے اظہار سے خالی ہے جبیں
نام سن کر ترا ، ماتھے پہ مرے بل آیا
آج مصروف ہوں کل ملتے ہیں کہتی تھی وہ روز
"آج" گزرا نہ کبھی اور نہ کبھی " کل" آیا

0
7
یاں دوست ہے کوئی نہ کوئی دشمنِ جاں ہے
اس ربط کا معیار فقط سود و زیاں ہے
پابندی ء اوقات نہیں " عشق کا جذبہ "
بوڑھا ہوں مگر دل تو مرا اب بھی جواں ہے

0
7
خزاں کی رت کو وہ فصلِ بہار کہتا ہے
عجیب شخص ہے دشمن کو یار کہتا ہے
اسے حساب کے کلیوں سے کچھ غرض ہی نہیں
گنے چنوں کو بھی وہ بےشمار کہتا ہے
میں اس کی سادہ دلی کی مثال کیسے دوں
وہ اتنا سادہ ہے نفرت کو پیار کہتا ہے

0
12
ہمارا عشق یہ اعجاز بھی دکھا دے گا
عجب نہیں ترا ہنسنا ہمیں رلا دے گا
ہر ایک گام پہ روکے گی اس کو یاد مری
قدم قدم پہ وہ مڑ کر مجھے صدا دے گا
وہ جانتا ہے بدن کو تراشنے کا ہنر
جہاں جہاں بھی نشاں ہے مرا مٹا دے گا

11
اجل کے سوز کو لمحوں میں بے اثر کر دے
وہ چھو کے نبض کو میری مجھے امر کر دے

0
17