Circle Image

Poet Sagar Haider Abbasi

@@1986

تمہارے ساتھ میں نے جو کبھی لمحے گزارے تھے
وہ لمحے سوچ لوں گر میں تو صدیاں بیت جاتی ہیں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
6
یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہاری یاد آنے سے
تمہیں جب یاد کرتے ہیں زمانے بیت جاتے ہیں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
4
تری یادوں کے صحرا میں کبھی جب ہم نکلتے ہیں
کبھی روتے ہیں چپکے سے کبھی ہنس کر بہلتے ہیں
تری خاطر سجائے تھے جو خوابوں کے حسیں موسم
وہی اب درد بن کر دل کے اندر روز پلتے ہیں
سنا ہے لوگ مرتے ہیں فقط اک بار الفت میں
مگر ہم ہیں کہ ہر لمحہ ترے غم میں مچلتے ہیں

0
7
زمانے سے دل لگایا، مجھ سے لگا ذرا
وفاؤں کو میری بھی کبھی آزما ذرا
ترا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا کہیں
تو کر کے بھروسہ مجھ پہ، رشتہ نبھا ذرا
میں بجھنے کبھی نہ دوں گا تیرا چراغِ دل
تو راہِ وفا میں دیپ کوئی جلا ذرا

0
14
اک لفظ کو دل سے کہنے میں سو زخم اٹھانے پڑتے ہیں
اک شعر غزل کا لکھنے میں سو درد جگانے پڑتے ہیں
آخر میں جو بھی شعر نکلتا ہے دل کی گہرائی سے
اس شعر کے پیچھے کتنے ہی افسانے چھپانے پڑتے ہیں
اک شخص کی خاطر اکثر کیا کیا کچھ سہنا بھی پڑتا ہے
کچھ رشتے نبھانے کی خاطر کچھ خواب گنوانے پڑتے ہیں

0
15
عشق میں ہر ایک اذیت کو بھی سہنا پڑتا ہے
درد جب حد سے بڑھے تو لب سے کہنا پڑتا ہے
دل میں گھٹنا پڑتا ہے آنکھوں سے بہنا پڑتا ہے
چند لمحے جینے کو صدیوں کو سہنا پڑتا ہے
© شاعر: ساگر حیدر عباسی

0
28
خواب آنکھوں میں اگر عزمِ جواں ہو جائے گا
خاک کا ذرّہ بھی اک روز آسماں ہو جائے گا
اپنی ہستی کو ذرا پہچان لے اے آدمی
تو اگر بیدار ہو، روشن جہاں ہو جائے گا
جو ترے سینے میں پنہاں ہے اسے بیدار کر
تیرا چپ رہنا بھی پھر حرفِ بیاں ہو جائے گا

21
شیشَۂ دل ہوں، سنبھل کر ہی اٹھانا مجھ کو
بے دھَیانی میں کہیں توڑ نہ جانا مجھ کو
میں بکھر جاؤں تو پھر جمع نہ ہو پاؤں گا
اتنی آسانی سے ہرگز نہ گنوانا مجھ کو
ایک مدت سے ہوں خاموش دعا کی صورت
اپنی آواز میں اک بار بلانا مجھ کو

0
42