جانِ سخن کہا تو وہ ناراض ہو گئے
ہم دل کی بات کہہ کے خطاکار ہو گئے
اک نام کیا لیا تھا محبت کے باب میں
وہ میری بات سن کے ہی بیزار ہو گئے
ہم نے تو مسکرا کے فقط حال پوچھا تھا
وہ جانے کس خیال میں سرشار ہو گئے
چاہا تھا ان کے حسن کی تعریف ہم کریں
دو لفظ کیا کہے کہ گنہگار ہو گئے
ہم نے وفا کے پھول سجائے تھے راہ میں
وہ اپنی ہی انا کے طلب گار ہو گئے
جانِ سخن کہا تھا فقط پیار سے انہیں
وہ لفظِ پیار سن کے بھی دیوار ہو گئے
                                   شاعر ساگر حیدر عباسی

0
2