تری یادوں کے صحرا میں کبھی جب ہم نکلتے ہیں
کبھی روتے ہیں چپکے سے کبھی ہنس کر بہلتے ہیں
تری خاطر سجائے تھے جو خوابوں کے حسیں موسم
وہی اب درد بن کر دل کے اندر روز پلتے ہیں
سنا ہے لوگ مرتے ہیں فقط اک بار الفت میں
مگر ہم ہیں کہ ہر لمحہ ترے غم میں مچلتے ہیں
کبھی تنہائی کی شب میں تری یادوں کے سائے میں
بہت سے درد آنکھوں سے اتر کر دل میں ڈھلتے ہیں
مجھے معلوم تھا ساگر کہ یہ نوبت تو آئے گی
وفا جو دل سے کرتے ہیں وہی ہر دم تو جلتے ہیں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
7