| سکونِ دل کی خاطر میں تمہارا نام لکھتا ہوں |
| لکھا جب نام پڑھتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| کسی سے جب بھی ملتا ہوں تو میں ہنس کے ہی ملتا ہوں |
| مگر جب خود سے ملتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| سحر کی روشنی میں جب پرندے گیت گاتے ہیں |
| انہیں حسرت سے سنتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| میں تب کتنا سنورتا تھا محبت کے زمانوں میں |
| مگر میں اب سنورتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| ترے قدموں کی آہٹ سے کبھی یہ دل دھڑکتا تھا |
| میں اب آہٹ سے ڈرتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| کبھی جن راستوں پر میں تمہارے ساتھ چلتا تھا |
| میں اب تنہا گزرتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| تمہارے بعد لفظوں سے عجب رشتہ بنا ساگر |
| قلم کاغذ پہ رکھتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں |
| © ساگر حیدر عباسی |
معلومات