| خواب آنکھوں میں اگر عزمِ جواں ہو جائے گا |
| خاک کا ذرّہ بھی اک روز آسماں ہو جائے گا |
| اپنی ہستی کو ذرا پہچان لے اے آدمی |
| تو اگر بیدار ہو، روشن جہاں ہو جائے گا |
| جو ترے سینے میں پنہاں ہے اسے بیدار کر |
| تیرا چپ رہنا بھی پھر حرفِ بیاں ہو جائے گا |
| تو ذرا پرواز کی لذت سے واقف ہو تو لے |
| تیرا ہر خوابِ گراں پھر جاوداں ہو جائے گا |
| عزم کو اپنے تو ساگرؔ آزما کے دیکھ لے |
| آج کا پہلا قدم کل کارواں ہو جائے گا |
| © ساگر حیدر عباسی |
معلومات