اک لفظ کو دل سے کہنے میں سو زخم اٹھانے پڑتے ہیں
اک شعر غزل کا لکھنے میں سو درد جگانے پڑتے ہیں
آخر میں جو بھی شعر نکلتا ہے دل کی گہرائی سے
اس شعر کے پیچھے کتنے ہی افسانے چھپانے پڑتے ہیں
اک شخص کی خاطر اکثر کیا کیا کچھ سہنا بھی پڑتا ہے
کچھ رشتے نبھانے کی خاطر کچھ خواب گنوانے پڑتے ہیں
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو چاہا کر کہنا مشکل ہوں
ان باتوں کے لفظوں میں پھر اشعار بنانے پڑتے ہیں
ساگر میں قلم سے جب دل کا ہر راز رقم کرنا چاہوں
کاغذ پہ کئی خوابوں کے مجھے پھر لاشے سجانے پڑتے ہیں
شاعرساگرحیدرعباسی

0
1