زمانے سے دل لگایا، مجھ سے لگا ذرا
وفاؤں کو میری بھی کبھی آزما ذرا
ترا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا کہیں
تو کر کے بھروسہ مجھ پہ، رشتہ نبھا ذرا
میں بجھنے کبھی نہ دوں گا تیرا چراغِ دل
تو راہِ وفا میں دیپ کوئی جلا ذرا
بکھرنے کبھی نہ دوں گا میں تیرے خواب کو
تو پلکوں پہ اپنا خواب کوئی سجا ذرا
میں چاہوں گا اتنا، بھول جاؤ گے سارے غم
مرا ہاتھ تھام کر تو اپنا بنا ذرا
اثر دیکھنا جو چاہو میری وفا کا گر
تو اک بار مجھ کو دل میں، ساگر، بسا ذرا
© ساگر حیدر عباسی

0
6