| خود کو جتنا خرچ کِیا ہے ہم نے سخن آرائی میں
|
| اِتنا وقت نہیں لگنا تھا زخموں کی تُرپائی میں
|
| کِتنا گہرا گھاؤ لگا تھا آخر اُس دیوانے کو
|
| جس نے خود کو پھینک دیا ہے اِتنی گہری کھائی میں
|
| اب تک دنیا کی آنکھوں نے شاید اِتنے دیکھے نئیں
|
| جتنے موسم آ سمٹے ہیں اُس کی اک انگڑائی میں
|
|
|