Circle Image

شیخ الطاف

@sheikhayaab

خود کو جتنا خرچ کِیا ہے ہم نے سخن آرائی میں
اِتنا وقت نہیں لگنا تھا زخموں کی تُرپائی میں
کِتنا گہرا گھاؤ لگا تھا آخر اُس دیوانے کو
جس نے خود کو پھینک دیا ہے اِتنی گہری کھائی میں
اب تک دنیا کی آنکھوں نے شاید اِتنے دیکھے نئیں
جتنے موسم آ سمٹے ہیں اُس کی اک انگڑائی میں

0
8
یہ بات سمجھنے میں کئی سال لگے ہیں
کچھ اور ہمیں ہونا تھا کچھ اور ہوۓ ہیں
پوچھو تو مرے یار ہیں اچھے بھی برے بھی
دیکھو تو مرے یار نہ اچھے نہ برے ہیں
جاتے ہوئے سب لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں
جاتے ہوئے سب لوگ اُسے دیکھ رہے ہیں

0
17
بس دِن گزارتا ہوں میں اِس اجنبی کے ساتھ،
رشتہ نہیں ہے کوئی مرا زندگی کے ساتھ۔
میں روشنی کے سنگ نہیں، چل سکا کبھی،
چلتا ہے جس یقین سے وہ تیرگی کے ساتھ۔
احوال ایک دوجے سے ہم کیسے پوچھتے،
میں بھی کسی کے ساتھ تھا،وہ بھی کسی کے ساتھ۔

12
تم نے جو قَہْقَہَہ اُچھالا ہے
میرے اندر کا ڈر نِکالا ہے
نیند غائب ہے گاؤں والوں کی
رات سے آسمان کالا ہے
وحشتیں، بے کسی، یہ ویرانی
دشت نے کیا نہیں سنبھالا ہے

26
تُو اُٹھا پائمال پتھر ایک
آسماں میں اُچھال پتھر ایک
دے رہا ہے جواب سر میرا
کر رہا ہے سوال پتھر ایک
میری دیوار میں نہیں آتا
ہائے! وہ بے مِثال پتھر ایک

0
32
مریضِ ہجر سنیں، پاس پاس ہو جائیں
اُداس شام ہے،سارے اُداس ہو جائیں
یہ مسئلہ ہے، اُداسی اُداس ہوتی ہے
فقیر لوگ اگر خوش لِباس ہو جائیں
ابھی گلے ملو ہم سے، کسے خبر ہے کہ کل
ہم اپنے آپ سے ہی نا شَناس ہو جائیں

20
جو کسی طور نہ تھا دل کو گوارا یارا
مجھ کو اُس درد نے کس درجہ نِکھارا یارا
آخِرش چارہ گروں نے تمہیں تجویز کِیا
جب بگڑتا ہی گیا حال ہمارا یارا
میں اُترتا ہوں خیالوں کے سمندر میں اگر
طنز کرتا ہے حقیقت کا کنارا یارا

0
30
ہم اُنہیں صاحبِ گفتار نہیں کہہ سکتے،
جو ترے حسن پہ اشعار نہیں کہہ سکتے۔
آپ دشوار کو آسان بھلے کہتے رہیں،
آپ آسان کو دشوار نہیں کہہ سکتے۔
نا تو سر پھوڑا نہ ہی دشتِ الم میں بھٹکے،
اِن کو بلکل بھی عزادار نہیں کہہ سکتے۔

49
اِس طرح دیکھ رہا ہے کوئی حیرانی سے،
جیسے پہچان ہی لے گا مجھے آسانی سے۔
مجھ سے ملنے کوئی آۓ تو یہ کہنا اس سے،
لوٹ جاۓ نہ ملے اپنی پشیمانی سے۔
رونقیں راس نہیں آئیں مجھے کیا کرتا،
مشورہ کر لیا پھر بعد میں ویرانی سے۔

37
جتنے چہرے بھی جہاں میں مجھے بیزار ملے
با خدا سارے محبت میں گرفتار ملے
کیا غضب ڈھا گیا اِس بار کا سیلاب یہاں
جو تھے اِس پار کے باشندے وہ اُس پار ملے
اُس سے کہنا مرے الفاظ مجھے لوٹا دے
گر کہیں راہ میں وہ ماہرِ گفتار ملے

0
128
سیکھیے ضبط،سبھی زخم چھپاتے رہیے
آہ نکلے تو اُسے شعر بناتے رہیے
کسی صورت نہ یہ مٹّی رہے بیکار کبھی
بھول مرجھا چلیں تو خار لگاتے رہیے
عشق کا قحط نہ پڑ جائے کہیں دنیا میں
یہ گزارش ہے کہ فرہاد بناتے رہیے

0
77
اُس کی سانسوں نے غضب شور مچاۓ رکھا،
خود بھلے سو گیا پر فون لگاۓ رکھا۔
جب کہ ہر یاد مٹا دی تھی،نہ جانے کیوں پھر،
ایک تصویر کو بٹوے میں چِھپاۓ رکھا ۔
ویسے انساں سے مخاطب بھی نہیں ہوتا میں ،
حضرتِ دل نے جسے سر پہ بِٹھاۓ رکھا۔

49
اب کسی سے نہیں ملوں گا میں
رات ہو دن یہیں رہوں گا میں
اِس لیے بولنے نہیں دیتے
جانتے ہیں کہ سچ کہوں گا میں
پھول بننا اگر نصیب ہوا
ترے آنگن میں ہی کھلوں گا میں

103
دیر تک پہلے وفا میں ہم رہے
بعد میں خاصی انا میں ہم رہے
دشمنوں سے پھر گلا ہی کیا رہا
دوستوں کی جب جفا میں ہم رہے
زلف کھولے تو ڈرا ہی دے تجھے
اس طرح کی اک بلا میں ہم رہے

0
45
جدا ہو کے ،بھی ہم سے پیار کرتا ہے
کہیں بھی دیکھ لے وہ وار کرتا ہے
الگ یہ بات وہ نبھاتا اک نہیں
مگر وہ وعدے اک ہزار کرتا ہے
یہ سچ ہے خوب چاہتا ہے مجھ کو پر
وہ ظلم بھی تو بے شمار کرتا ہے

0
57
خبر یہ ملی تھی جفا مسئلہ ہے
مگر دیکھتا ہوں انا مسئلہ ہے
میاں عشق تو ہے بلا کا ہے لیکن
وہ جس سے ہے اس کی رضا مسئلہ ہے
مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا لیکن
نمازیں ہوئی ہیں قضا مسئلہ ہے

0
43
نۓ زمانوں کا کیا کروں گا
میں قید خانوں کا کیا کروں گا
جو دفن ہم نے کبھی کۓ تھے
میں اُن خزانوں کا کیا کروں گے
جو تیرے ناخون سے لگے ہیں
میں اُن نشانوں کا کیا کروں گا

0
49
روشنی میں جگنو لایا جا رہا ہے
آئنے کو کیا دکھایا جا رہا ہے
یہ دھواں سا کیا اٹھایا جا رہا ہے
آگ کو کیوں آزمایا جا رہا ہے
کون ہے جو دے کے دستک چھپ گیا ہے
کیوں مجھے یوں ہی ستایا جا رہا ہے

59