یہ بات سمجھنے میں کئی سال لگے ہیں
کچھ اور ہمیں ہونا تھا کچھ اور ہوۓ ہیں
پوچھو تو مرے یار ہیں اچھے بھی برے بھی
دیکھو تو مرے یار نہ اچھے نہ برے ہیں
جاتے ہوئے سب لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں
جاتے ہوئے سب لوگ اُسے دیکھ رہے ہیں
فالحال ترے ہونٹوں پہ کچھ عرض کروں گا
ویسے تری آنکھوں پہ بھی کچھ شعر کہے ہیں
کیا یاد تجھے آیا ہے او 'صبح کے بھولے'
دہلیز پہ آکر جو ترے پاؤں رُکے ہیں
ایسا تو کوئی اور نہ ہوگا، نہ ہوا ہے
جس طرح یہاں ہم نظر انداز ہوۓ ہیں
آتے ہوئے دیکھا نہیں کس راہ سے آۓ
جاتے ہوئے سوچا نہیں کس سمت چلے ہیں
یہ کام کسی اور کے بس کا نہیں الطافؔ
یہ زخم مجھے اپنے ہی ہاتھوں سے لگے ہیں

0
17