| یہ بات سمجھنے میں کئی سال لگے ہیں |
| کچھ اور ہمیں ہونا تھا کچھ اور ہوۓ ہیں |
| پوچھو تو مرے یار ہیں اچھے بھی برے بھی |
| دیکھو تو مرے یار نہ اچھے نہ برے ہیں |
| جاتے ہوئے سب لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں |
| جاتے ہوئے سب لوگ اُسے دیکھ رہے ہیں |
| فالحال ترے ہونٹوں پہ کچھ عرض کروں گا |
| ویسے تری آنکھوں پہ بھی کچھ شعر کہے ہیں |
| کیا یاد تجھے آیا ہے او 'صبح کے بھولے' |
| دہلیز پہ آکر جو ترے پاؤں رُکے ہیں |
| ایسا تو کوئی اور نہ ہوگا، نہ ہوا ہے |
| جس طرح یہاں ہم نظر انداز ہوۓ ہیں |
| آتے ہوئے دیکھا نہیں کس راہ سے آۓ |
| جاتے ہوئے سوچا نہیں کس سمت چلے ہیں |
| یہ کام کسی اور کے بس کا نہیں الطافؔ |
| یہ زخم مجھے اپنے ہی ہاتھوں سے لگے ہیں |
معلومات