| تُو اُٹھا پائمال پتھر ایک |
| آسماں میں اُچھال پتھر ایک |
| دے رہا ہے جواب سر میرا |
| کر رہا ہے سوال پتھر ایک |
| میری دیوار میں نہیں آتا |
| ہائے! وہ بے مِثال پتھر ایک |
| سب قلندر خموش بیٹھے ہیں |
| کر رہا ہے دھمال پتھر ایک |
| گیت گاتا ہوں میں محبت کے |
| سنتا ہے ہم خیال پتھر ایک |
| میں خبر گیر ریت کا الطاف |
| میرا پُرسانِ حال پتھر ایک |
معلومات