| خود کو جتنا خرچ کِیا ہے ہم نے سخن آرائی میں |
| اِتنا وقت نہیں لگنا تھا زخموں کی تُرپائی میں |
| کِتنا گہرا گھاؤ لگا تھا آخر اُس دیوانے کو |
| جس نے خود کو پھینک دیا ہے اِتنی گہری کھائی میں |
| اب تک دنیا کی آنکھوں نے شاید اِتنے دیکھے نئیں |
| جتنے موسم آ سمٹے ہیں اُس کی اک انگڑائی میں |
| سارا بوجھ اب اُسکے سَر پہ رکھنا بھی تو ٹھیک نہیں |
| تھوڑا تھوڑا میں بھی شامل تھا اپنی رسوائی میں |
| برسوں سے اک ساتھ ہیں دونوں لیکن یہ کیا بات ہوئی |
| میری اب تک تُو نئیں سمجھا اور نہ تری تنہائی میں |
| خود کو لے کر آ تو گیا ہوں دنیا کے بازاروں میں |
| کون خریدے مجھ ایسے کو وہ بھی اِس مہنگائی میں |
| مولا جانے اُس کے دیس میں 'یوں' کا مطلب کیا ہوتا ہے |
| جاتے جاتے بولا تھا بس 'یوں' گئی اور 'یوں' آئی میں |
| اب آرام سے بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں یہ الطافؔ |
| خود کا ہی نقصان ہوا ہے خود سے ہاتھا پائی میں |
معلومات