| اب کسی سے نہیں ملوں گا میں |
| رات ہو دن یہیں رہوں گا میں |
| اِس لیے بولنے نہیں دیتے |
| جانتے ہیں کہ سچ کہوں گا میں |
| پھول بننا اگر نصیب ہوا |
| ترے آنگن میں ہی کھلوں گا میں |
| عشق جب تک معافی نا مانگے |
| ضد ہے تب تک نہیں اٹھوں گا میں |
| گر نہیں دل لگا کتابوں میں |
| لوٹ آنا یہی ملوں گا میں |
| بات تیری سنوں گا اچھے سے |
| پر بھروسہ نہیں کروں گا میں |
| مجھ پہ مجنوں کا سایا پڑ گیا ہے |
| اب کسی کی نہیں سنوں گا میں |
| بس دعا اور سلام ہی کیجے |
| حال پوچھا تو رو پڑوں گا میں |
| تجھ کو کس کی تلاش ہے عیّابؔ |
| دربدر کب تلک پھروں گا میں |
معلومات