| جو کسی طور نہ تھا دل کو گوارا یارا |
| مجھ کو اُس درد نے کس درجہ نِکھارا یارا |
| آخِرش چارہ گروں نے تمہیں تجویز کِیا |
| جب بگڑتا ہی گیا حال ہمارا یارا |
| میں اُترتا ہوں خیالوں کے سمندر میں اگر |
| طنز کرتا ہے حقیقت کا کنارا یارا |
| دو پرندوں کو کہیں ساتھ میں جب بھی دیکھا |
| میں نے ہر سمت تجھے ڈھونڈا پُکارا یارا |
| اُس نے آ آ کے مرے ذہن میں ڈیرے ڈالے |
| میں نے رہ رہ کے جِسے دل سے اُتارا یارا |
معلومات