نہیں سنتا دلِ ناشاد میری
ہوئی ہے زندگی برباد میری
رہائی کی اُمیدیں مجھ کو معلوم
تسّلی کر نہ اے صیّاد میری
نہیں ہے بزم میں ان کی رسائی
یہ کیا فریاد ہے فریاد میری

مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن


1764
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر
تم اور مان جاؤ شرارت کئے بغیر
اہلِ نظر کو یار دکھاتا رہِ وفا
اے کاش ذکرِ دوزخ و جنت کئے بغیر
اب دیکھ اُس کا حال کہ آتا نہ تھا قرار
خود تیرے دل کو جس پہ عنایت کئے بغیر

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
607
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے
لیکن زمیں پہ بت، نہ فلک پر خدا سنے
فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ
لیکن نہ گل، نہ غنچہ، نہ بادِ صبا سنے
خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان
کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
649
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں‌ نہیں ‌دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں‌ نہیں ‌دیتے
دردِ شبِ ہجراں‌ کی جزا کیوں‌ نہیں دیتے
خونِ دلِ وحشی کا صلہ کیوں ‌نہیں دیتے
ہاں ‌نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاں‌ نغمہ گرو ساز‌ صدا کیوں‌ نہیں‌ دیتے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
2599
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہمراز کا رنگ
سایۂ چشم میں‌ حیراں رُخِ روشن کا جمال
سُرخیٔ لب میں‌ پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پئے ہوں کہ اگر لطف کرو آخرِ شب
شیشۂ مے میں‌ ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


1065
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا
مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن


0
7361
وہ در کھلا میرے غمکدے کا​
وہ آ گئے میرے ملنے والے​
وہ آگئی شام، اپنی راہوں
میں فرشِ افسردگی بچھانے​
وہ آگئی رات چاند تاروں
کو اپنی آزردگی سنانے​

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
1071
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
جو نفس تھا خارِ گلو بنا، جو اٹھے تو ہاتھ لہو ہوئے
وہ نشاطِ آہ سحر گئی وہ وقارِ دستِ دعا گیا
نہ وہ رنگ فصلِ بہار کا، نہ روش وہ ابرِ بہار کی
جس ادا سے یار تھے آشنا وہ مزاجِ بادِ صبا گیا

متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن


0
2769
تُجھے پُکارا ہے بے ارادہ
جو دل دُکھا ہے بہت زیادہ
نَدیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عَطا کرو اِک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


2243
آج پھر درد و غم کے دھاگے میں​
ہم پرو کر ترے خیال کے پھول​
ترکِ الفت کے دشت سے چن کر​
آشنائی کے ماہ و سال کے پھول​
​تیری دہلیز پر سجا آئے​
پھر تری یاد پر چڑھا آئے​

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
1716
میرے دل میرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں

فَعِلات فاعِلاتن فَعِلات فاعِلاتن


0
3489
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات
اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی
اور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتھ
ان کا آنچل ہے، کہ رخسار، کہ پیراہن ہے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


3619
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
مد بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی
دلنشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی
حرفِ نفرت کوئی، شمشیرِ غضب ہو جیسے
تا ابد شہرِ ستم جس سے تباہ ہو جائیں
اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
1065
افق سے سحر مسکرانے لگی
مؤذن کی آواز آنے لگی
یہ آواز ہرچند فرسودہ ہے
جہاں سوز صدیوں سے آلودہ ہے
مگر اس کی ہر سانس میں متصل
دھڑکتا ہے اب تک محمد کا دل

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعَل


1257
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں
ہیں دورِ جامِ اوّلِ شب میں خودی سے دُور
ہوتی ہے آج دیکھئے ہم کو سحر کہاں
یارب، اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


3145
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا
تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں پر کیا لذت اس رونے میں
جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا

بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف


0
11204
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
روح کو اس کی اسیرِ غمِ الفت نہ کروں
اُس کو رسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں
سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ
واقفِ درد نہیں، خوگرِ آلام نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
1229
زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے
فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے
یہ میں کہہ رہا ہوں
میں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں
تسلسل کا جھولا نہیں ہوں
مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن


2811
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں اور پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


3682
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی​
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی​
تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے​
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی​
نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تو نے​
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشیں نہ راہی​

فَعِلات فاعِلاتن فَعِلات فاعِلاتن


1369